Blog

٭ مصالحتی کونسل کو قبائلی اضلاع میں بھی متعارف کرایا جارہا ہے۔ آئی جی پی اختر حیات خا ن ٭ پچھلے دس مہینوں میں صوبہ بھ…

[ad_1]

٭ مصالحتی کونسل کو قبائلی اضلاع میں بھی متعارف کرایا جارہا ہے۔ آئی جی پی اختر حیات خا ن ٭ پچھلے دس مہینوں میں صوبہ بھر کی تمام DRCs میں 5 ہزار تک درخواستیں م…وصول ٭ موصول شدہ درخواستوں میں 3996پُرامن طور پر حل ٭ 688 تنازعات، قانونی چارہ جوئی کے لیے متعلقہ فورمز کو ارسال (پریس ریلیز) خیبر پختونخوا میں تنازعات کے حل کی قائم کونسلوں کورواں سال کے پچھلے دس مہینوں میں مختلف قسم کے رقم کے لین دین ،عائلی /خاندانی جھگڑے اور اراضی تنازعہ وغیرہ سے متعلق 4983 شکایات موصول ہوئیں جن میں 3996 تنازعات خوش اسلوبی سے پُر امن طور پر حل کر لی گیئں ، 688 تنازعات قانونی چارہ جوئی کے لیے متعلقہ فورم کو بھجوا دی گئیں جبکہ299 تنازعات پر کارروائی تاحال جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق عام عوام کے چھوٹے چھوٹے تنازعات کا خوش اسلوبی سے مستقل حل نکالنے کے لیے صوبے کے تمام اضلاع میں تنازعات کے حل کی کونسلیں قائم ہیں۔ عوام زیادہ تعداد میں اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل وتنازعات کے حل کے لیے ان کونسلوں کو رجوع کرتی ہے۔ کونسل برائے تنازعات کے حل کے قیام کا بُنیادی مقصد عام آدمی کوفوری اور مفت انصاف دلانا ہے اور معاشرے کے مختلف افراد کے مابین ہونے والے چھوٹے چھوٹے جھگڑوں اور تنازعات کا ایسا پُرامن حل تلاش کرنا ہے کہ سرے سے جیسے پیدا ہی نہیں ہوا ۔ تاکہ معاشرے میں امن و آشتی، باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے جذبے کو فروغ حاصل ہو اور دوسری طرف عوام بالخصوص غریب اور بے بس لوگ تھانوں اور کچہریوں کے چکروں سے چھٹکارا حاصل کرکے اپنی صلاحتیں اور وسائل مثبت اور تعمیری کاموں پر لگا کر معاشرے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔کونسل برائے تنازعات کے حل کا منشور قران وسنت کی روشنی میں تشکیل دیا گیا ہے۔ ڈی آر سی کے فیصلوں میں کسی کی ہار یا جیت نہیں ہوتی بلکہ فیصلے دونوں فریقین کی باہمی تسلی پر مبنی ہوتے ہیں۔دیکھا جائے تو نہ صرف 3996 مقدمات کے فوری حل نے عدالتوں کا بوجھ ختم کردیا ہے بلکہ اس سے دُگنی تعداد میں مختلف خاندانوں کا پیسہ ضائع کئے بغیر تنازعات باہمی رضامندی سے حل ہوئے۔ ان کونسلوں نے پچھلے دس ماہ کے دوران ضلع پشاور میں 335، مردان میں 699،نوشہرہ میں174، صوابی میں943 ،سوات میں 225، کوہاٹ میں 284، کرک میں 50،ہنگو میں 86،لکی مروت میں 10، بونیر میں 74 ، اپر دیر میں 5،چترال میں41، شانگلہ میں 100 ، ایبٹ آباد میں391، ہری پور میں 132، مانسہرہ میں 153، ڈی آئی خان میں183، ٹانک میں 20اور بنوں میں91 تنازعات خوش اسلوبی سے حل کئے ہیں۔ تنازعات کے حل کے لیے بنائے گئی کونسل کی ذمہ داریوں میں تنازعات کا پُر امن حل، حقائق جاننے کے لیے تحقیق ( انکوائری) کرنا اورکی گئی متنازعہ تفتیش میں بطور جیوری کام کرنا شامل ہے۔واضح رہے کہ پورے صوبے کے عوام کو تنازعات کے حل کے کونسلوں کے کردار اور کارکردگی پر بھر پو ر اعتماد اور اطمینان حاصل ہے۔ عوام ان کو نسلوں کو مفت اور فوری انصاف کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ قراردے رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ آئی جی پی اخترحیات خان کی ہدایت پر قبائلی اضلاع میں بھی تنازعات کے حل کی کونسلوں کے قیام کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور بہت جلد تمام قبائلی اضلاع میں DRCs قائم ہو کر لوگوں کے مابین چھوٹے چھوٹے تنازعات کے حل کو یقینی بنائیں گی۔

[ad_2]

Source link

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button